حافظ ابراہیم (1871ء تا 1932ء) 20ویں صدی کے مصر کے عربی زبان کے شاعر ہیں۔ انہیں ’’شاعر النیل“ کہا جاتا ہے۔ غریب عوام کی سیاسی آواز بننے کی وجہ سے انہیں عوامی شاعر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں عام مصریوں کے مسائل کو موضوع بنایا مثلاً خواتین کے حقوق، غربت، تعلیم اور سلطنت برطانیہ کی تنقید وغیرہ۔
حافظ ابراہیم ان مصری شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 19ویں صدی کے اواخر میں کلاسیکی عربی شاعری کو جلا بخشی اور کلاسیکی عروض و قوافی کو استعمال کرتے ہوئے ایسے معانی اور تاثرات پیش کیے جو عام کلاسیکی شاعر کے لیے بالکل انجان تھے۔ حافظ ابراہیم کو سیاسی اور سماجی شاعر کہا جاتا ہے۔
ان کی ولادت 1817ء میں دیروط مصر میں ہوئی۔ ان کے والد مصری انجینئر تھے اور والدہ ترکی النسل تھیں۔والد کے انتقال کے بعد بعمر چار برس وہ اپنے ماموں کے پاس طنطا چلے گئے اور ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد قاہرہ کا رخ کیا جہاں ثانوی تک کی تعلیم مکمل ہوئی۔ والدہ کے انتقال کے بعد وہ واپس طنطا آگئے اور مشہور وکیل ابو شادی کے ساتھ رہنے لگے جہاں ان کا تعارف بیشتر ادبی کتابوں اور مصری قومی تحریک کے نامور قائدین سے ہوا۔
1888ء میں حافظ نے ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا اور تین برس بعد لفٹنینٹ بن کر نکلے۔ وزارت داخلہ میں ان کی تقرری ہوئی اور 1896 ء میں انہیں سوڈان بھیج دیا گیا۔ وہاں انہوں نے دیگر مصری مظاہرین کے ساتھ سوڈان مخالف تحریک میں حصہ لیا جس کے نتیجہ میں ان کا کورٹ مارشل ہوا اور انہیں مصر واپس بھیج دیا گیا۔1911ء میں انہیں مصری قومی کتب خانہ کا صدر مقرر کیا گیا اور وزیر تعلیم نے انہیں بیگ کے خطاب سے نوازا اور اس طرح ان کی مالی پریشانی دور ہو گئی اور معاشی حالات مستحکم ہوئے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ یہ عظیم شاعر شعر و ادب پر توجہ دینے لگا۔ اس دوران میں انہوں نے اپنے ہم خیال اور جدید کلاسیکل شاعری کے شعرا احمد شوقی اور محمود سامی بارودی سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ مل کر کلاسیکل شاعری کو بنا سنوار کر نئے انداز میں پیش کیا۔